دوسری بات نہ پہلی وہ بتائے مجھ کو
روز لفظوں کا نیا کھیل سِکھائے مجھ کو
ایک بھى عکس مُکمل نہ دِکھائے مجھ کو
اتنا اُلجھا ہوں کہ اُلٹا نظر آئے مجھ کو
پہلے کى طرح اگر پھر بھى مجھے توڑنا ہے
اُس سے کہہ دو کہ دوبارہ نہ بنائے مجھ کو
پھر تو بیمارى بھى نعمت ہے مِرے خیر اندیش
وہ ستم گر بھى اگر پُوچھنے آئے مجھ کو
خود ہی سوچو کہ وہ کیوں شہر بدر کر کے مجھے
کفِ افسوس ملے، ڈھونڈنے آئے مجھ کو
بے یقینی بھی یقینی کا ہی اک عکس تو ہے
دوسرا رُخ تو کوئی شخص دکھائے مجھ کو
تیرا مِلنا بھی ضروری تو نہیں جانِ صہیب
بول کیا سوچ کے وہ شخص گنوائے مجھ کو
محمد عدنان صہیب
No comments:
Post a Comment