عارفانہ کلام نعتیہ کلام
کیسے ہو رسائی اس نگاہ تک
محبوب رکھے جسے خدا تک
کس طرح رکھوں قدم جہاں پر
آہستہ خرام ہو صبا تک
اس خاک میں کون سو رہا ہے
جو ہو گئی مشکبُو ہوا تک
اس شہر کی کیا مثال جس کی
رکھ دی گئی خاک میں شفا تک
منزل کا جمال کیسا ہو گا
روشن ہے جہاں کا راستہ تک
اس چہرے کا عکس کس نے دیکھا
حیران رہا ہے آئینہ تک
ہے اس کی رضا وہ جب بلائے
اپنی تو رسائی ہے دعا تک
امیدِ جواب کیوں نہ رکھوں
کیا کارِ فقیر ہے صدا تک
کہ معراج کی شب نظر سے لےکر
جل جاتا ہے روح کا دیا تک
سچائی کا ایک قافلہ ہے
طائف کے سفر سے کربلا تک
پروین شاکر
No comments:
Post a Comment