Saturday, 13 August 2022

کیسے ہو رسائی اس نگاہ تک

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


کیسے ہو رسائی اس نگاہ تک

محبوب رکھے جسے خدا تک

کس طرح رکھوں قدم جہاں پر

آہستہ خرام ہو صبا تک

اس خاک میں کون سو رہا ہے

جو ہو گئی مشکبُو ہوا تک

اس شہر کی کیا مثال جس کی

رکھ دی گئی خاک میں شفا تک

منزل کا جمال کیسا ہو گا

روشن ہے جہاں کا راستہ تک

اس چہرے کا عکس کس نے دیکھا

حیران رہا ہے آئینہ تک

ہے اس کی رضا وہ جب بلائے

اپنی تو رسائی ہے دعا تک

امیدِ جواب کیوں نہ رکھوں

کیا کارِ فقیر ہے صدا تک

کہ معراج کی شب نظر سے لےکر

جل جاتا ہے روح کا دیا تک

سچائی کا ایک قافلہ ہے

طائف کے سفر سے کربلا تک


پروین شاکر

No comments:

Post a Comment