Sunday, 14 August 2022

دو چار دن کی مہلت حسن عمل تو ہو

 حبل الورید سے پرے دستِ اجل تو ہو

دو چار دن کی مہلتِ حُسنِ عمل تو ہو

اُس یارِ آشنا سے ملاقات ہو، مگر

آپس میں بات چیت کا موقع محل تو ہو

محنت کشوں کے ہاتھ سے دنیا تو بن گئی

محنت کشوں کے ہاتھ میں محنت کا پھل تو ہو

جب تُو نہیں تو تجھ سا کوئی اور بھی نہیں

جیون میں تُو نہ ہو، ت<را نعم البدل تو ہو

اتنا تو ارتقاء ہو سماجی شعور کا

لوگوں کے پاس اپنے مسائل کا حل تو ہو

اے یادِ یار! اتنا نکمّا نہ کر مجھے

مجھ سے کچھ اور ہو نہ ہو، کوئی غزل تو ہو

یادوں میں خوشگوار کوئی یاد بھی نہیں

یادوں میں یادگار کوئی ایک پل تو ہو

عاجز نظامِ عدل کا احیاء کرے کوئی

پیدا کسی میں ظلم کا ردِ عمل تو ہو


بلال عاجز

No comments:

Post a Comment