Sunday, 14 August 2022

سوئے ہوئے ضمیر کو تھوڑا جھنجھوڑیے

 سوئے ہوئے ضمیر کو تھوڑا جھنجھوڑیے

نفرت سے ٹوٹے ربط کو الفت سے جوڑیے

تر دامنی پہ اور کی جائیں ضرور پر

پہلے ذرا یہ اپنا تو دامن نچوڑیے

کیجے نہ شرمسار نصیحت کی آڑ میں

دستک ضرور دیجیے، پر در نہ توڑیے

دیکھیں ضرور خواب بھی حق ہے یہ آپ کا

لیکن حقیقتوں سے کبھی منہ نہ موڑیے

کوشش ہی آخرش کرے منزل سے ہمکنار

ناکام ہو بھی جائیں تو کوشش نہ چھوڑیے

تنہا ہی کر نہ ڈالے کہیں جیتنے کا شوق

الفی کبھی نہ زیست میں اس طور دوڑیے


افتخار حسین الفی

No comments:

Post a Comment