سوئے ہوئے ضمیر کو تھوڑا جھنجھوڑیے
نفرت سے ٹوٹے ربط کو الفت سے جوڑیے
تر دامنی پہ اور کی جائیں ضرور پر
پہلے ذرا یہ اپنا تو دامن نچوڑیے
کیجے نہ شرمسار نصیحت کی آڑ میں
دستک ضرور دیجیے، پر در نہ توڑیے
دیکھیں ضرور خواب بھی حق ہے یہ آپ کا
لیکن حقیقتوں سے کبھی منہ نہ موڑیے
کوشش ہی آخرش کرے منزل سے ہمکنار
ناکام ہو بھی جائیں تو کوشش نہ چھوڑیے
تنہا ہی کر نہ ڈالے کہیں جیتنے کا شوق
الفی کبھی نہ زیست میں اس طور دوڑیے
افتخار حسین الفی
No comments:
Post a Comment