پا بستۂ زنجیرِ انا تُو ہے کہ میں ہوں
معلوم نہیں مجھ سے خفا تُو ہے کہ میں ہوں
خود اپنی مسیحائی کا اب مشورہ مت دے
اِس دردِ محبت کی دوا تُو ہے کہ میں ہوں
میں جب بھی تعرّض کوئی کرتا ہوں خدا سے
وہ مجھ سے یہ کہتا ہے خدا تُو ہے کہ میں ہوں
تجھ کو بھی وفاداری کا دعویٰ تھا مگر آج
بے گانۂ پیمانِ وفا تُو ہے کہ میں ہوں
میں ڈھونڈ رہا ہوں تجھے یا خود کو، خبر کیا
اے جانِ طلب مجھ سے جدا تُو ہے کہ میں ہوں
بلال عاجز
No comments:
Post a Comment