Saturday, 13 August 2022

برق افگن ہے فلک سرو و سمن خطرے میں ہے

 برق افگن ہے فلک، سرو و سمن خطرے میں ہے

محض گُلچیں ہی نہیں سارا چمن خطرے میں ہے

اہلِ مذہب میں وہ شدت ہے کہ جس کے باعث

دین خطرے میں کبھی شاہِ زمن خطرے میں ہے

پھر تو اک ڈھونگ ہے ناقابلِ تسخیر دفاع

فوج ہر دور میں کہتی ہے وطن خطرے میں ہے

کون روکے گا یہ بڑھتا ہوا جنسی ہیجان

خوف ایسا ہے کہ ہر طفلک و زن خطرے میں ہے

ہر پری چہرہ کے دشمن ہیں یہ تیزاب بدست

حُسن کی وجہ سے ہر غنچہ دہن خطرے میں ہے

استفادہ تو نہیں سَرقہ کیے جاتے ہیں لوگ

آج اسلاف کا سرمایۂ فن خطرے میں ہے

بعض ایسے متشاعر ہیں سرِ شہرِ سخن

جن کے اعمال سے ہر صنفِ سخن خطرے میں ہے

کچھ بھی ہو جائے یہ خطرہ نہیں ٹلنا عاجز

ڈر ہی ایسا ہے کہ ہر شے ہمہ تن خطرے میں ہے


بلال عاجز

No comments:

Post a Comment