Saturday, 13 August 2022

ہیں محو حیرت دنیا دماغ کتنے ہی

 ہیں محوِ حیرتِ دنیا دماغ کتنے ہی

مِلا نہ تُو مِلے تیرے سراغ کتنے ہی

یہ سال کیسی ہواؤں کو ساتھ لایا ہے

بُجھا دئیے ہیں پرانے چراغ کتنے ہی

یہ کیا کہ روز نیا زخم مِل رہا ہے ہمیں

ابھی تو مٹنے نہ پائے تھے داغ کتنے ہی

یہ ان کے لہجے کی تاثیر تھی کہ باتوں کی

دکھا دئیے ہیں ہمیں سبز باغ کتنے ہی

ہے اب بھی دل مِرا آمادۂ محبت کیوں

مِلے ہیں گرچہ محبت میں داغ کتنے ہی

یہی وہ غم تھا جو اقبال کو ستاتا رہا

مِلا نہیں انہیں شاہیں تھے زاغ کتنے ہی

بِنا پلائے ہی رُخصت کیا ہمیں سعدی

وہ بھر رہا تھا اگرچہ ایاغ کتنے ہی


سعید سعدی

No comments:

Post a Comment