Sunday, 9 May 2021

مری کارگاہ دل میں ابھی کام ہے زیادہ

 مِری کارگاہِ دل میں ابھی کام ہے زیادہ

کوئی چیز اک جگہ سے ذرا خام ہے زیادہ

کسی منظر شفق کو کہاں آنکھ میں جگہ دوں

مِرے خونِ دل سے رنگیں مِری شام ہے زیادہ

گھڑی بھر ٹھہرنے والے ذرا یہ خیال رکھنا

یہ جو سایۂ شجر ہے کوئی دام ہے زیادہ

مِرا مشورہ یہی ہے اسی راستے سے جانا

بڑا صاف ہے اگرچہ کئی گام ہے زیادہ

پڑے ہیں بہت سے میرے ابھی کام نامکمل

کوئی بوجھ جاتے دن پر سرِ شام ہے زیادہ

کوئی جرم دوسرے کا مِرا بن گیا ہے کیسے

تِری فرد جرم میں کیوں مِرا نام ہے زیادہ

کبھی کوچۂ طلب میں کبھی راہِ زرگری پر

تِرا کارِ حسن اب کچھ سرِ عام ہے زیادہ

تِری آنکھ میں جو شاہیں لبالب بھرا ہوا ہے

کسی اک طرف سے خالی وہیں جام ہے زیادہ


جاوید شاہین

No comments:

Post a Comment