Sunday, 9 May 2021

جنوں کے جوش میں جس نے محبت کو ہنر جانا

 جنوں کے جوش میں جس نے محبت کو ہنر جانا

سبکدوشی سمجھتا ہے وہ اس سودا میں سر جانا

کسی کا ناز تھا انداز تھا اب سر بسر جانا

ادھر چڑھنا نگاہوں میں ادھر دل میں اتر جانا

تصور خال و عارض کا تماشائے دو عالم ہے

یہاں آنکھوں میں رہنا ہے وہاں دل میں اتر جانا

جنونِ عشق میں کب تن بدن کا ہوش رہتا ہے

بڑھا جب جوش سودا ہم نے سر کو درد سر جانا

ہوس بازی نہیں یہ عشق بازی ہے خدا شاہد

محبت میں ہے شرطِ اولیں جی سے گزر جانا

مٹائی اپنی ہستی ہم نے عشق جان جاناں میں

فنا میں دیکھ کر رنگِ بقا کو معتبر جانا

سراپائے وفا اک زندۂ جاوید و بے غم ہے

تکلف برطرف غم کیا ہے جینا اور مر جانا

ہماری عمر کا پیمانہ اب لبریز ہے ساحر

چھلکنا فرض ہو جاتا ہے پیمانے کا بھر جانا


ساحر دہلوی

No comments:

Post a Comment