اشک سیلاب سہی ٹیس یہ جانے کی نہیں
داغ دھلنے کے نہیں، یاد مٹانے کی نہیں
اب ندامت نے وہ گھیرا ہے کہ اک لمحے کو
بے حسی جشنِ غمِ ذات منانے کی نہیں
کیمرے تھے جو دکھاتے رہے چھلنی منظر
کیسے شبیرؓ نے قاسم کا اٹھایا لاشہ
بوڑھے ماں باپ کو یہ بات بتانے کی نہیں
جل رہا ہوں مگر الفاظ نہیں آتش گیر
روح جلنے کی نہیں نظم جلانے کی نہیں
شہاب صفدر
No comments:
Post a Comment