Monday, 7 November 2016

اک دوجے کو دیر سے سمجھے دیر سے یاری کی

اک دوجے کو دیر سے سمجھے دیر سے یاری کی
ہم دونوں نے ایک محبت باری باری کی
خود پر ہنسنے والوں میں ہم خود بھی شامل تھے
ہم نے بھی جی بھر کر اپنی دلآزاری کی
اک آنسو نے دھو ڈالی ہے دل کی ساری میل
ایک دِیے نے کاٹ کے رکھ دی ہری تاریکی
دل نے خود اصرار کیا اک ممکنہ ہجرت پر
ہم نے اس مجبوری میں بھی خود مختاری کی
چودہ برس کے ہجر کو اِمشب رخصت کرنا تھا
سارا دن سو سو کر جاگنے کی تیاری کی
ہم بھی اس دنیا کے باسی تھے سو ہم نے بھی
دنیا والوں سے تھوڑی سی دنیا داری کی
انجمؔ ہم عشاق میں اونچا درجہ رکھتے ہیں
بیشک عشق نے ایسی کوئ سند نہ جاری کی

انجم سلیمی

No comments:

Post a Comment