یہ محبت کا جو انبار پڑا ہے مجھ میں
اس لیے ہے کہ مِرا یار پڑا ہے مجھ میں
چھینٹ اک اڑ کے مِری آنکھ میں آئی تو کھلا
ایک دریا ابھی تہہ دار پڑا ہے مجھ میں
میری پیشانی پہ اس بل کی جگہ ہے ہی نہیں
ہر تعلق کو محبت سے نبھا لیتا ہے
دل ہے یا کوئی اداکار پڑا ہے مجھ میں
میرا دامن بھی کوئی دستِ ہوس کھینچتا ہے
ایک میرا بھی خریدار پڑا ہے مجھ میں
کس نے آباد کیا ہے مِری ویرانی کو
عشق نے، عشق تو بیمار پڑا ہے مجھ میں
میرے اکسانے پہ میں نے مجھے برباد کیا
میں نہیں، میرا گنہ گار پڑا ہے مجھ میں
مشورہ لینے کی نوبت ہی نہیں آ پاتی
ایک سے ایک سمجھدار پڑا ہے مجھ میں
اے برابر سے گزرتے ہوۓ دکھ! تھم تو سہی
تجھ پہ رونے کو عزادار پڑا ہے مجھ میں
میرا ہونا ، میرے ہونے کی گواہی تو نہیں
میرے آگے مِرا انکار پڑا ہے مجھ میں
بھوک ایسی ہے کہ میں خود کو بھی کھا سکتا ہوں
کیسا یہ قحط لگا تار پڑا ہے مجھ میں
انجم سلیمی
No comments:
Post a Comment