اقبال و میر و غالب و بیدل نہیں رہے
کیا ہم مزاج لوگ تھے جو مل نہیں رہے
کیوں خودکشی کا سوچتے رہتے ہو رات دن
کیا کوچۂ جمال میں قاتل نہیں رہے؟
واماندگی سے خوش ہیں اذیت پسند لوگ
دیکھو ترابؔ سادگی سے جی رہے ہیں ہم
اب تو ہمارے شعر بھی مشکل نہیں رہے
عطا تراب
No comments:
Post a Comment