تھا دل کو ذوقِ زخم شماری نہیں رہا
اہلِ نظر کا فیض تھا، جاری، نہیں رہا
مارے جو تم نے پھول، لگے صبر آزما
اب کوئی وار دوستو! کاری نہیں رہا
بہرِ وِداع آ گئے احبابِ جاں سپار
جاں دادگی کا مرحلہ بھاری نہیں رہا
رہوارِ تازہ دم انہیں درکار تھے سو میں
آئندہ کے غموں کی سواری نہیں رہا
گویا نہیں رہا میں خلا میں زیادہ دیر
تسخیر مہ کا نشہ سا طاری نہیں رہا
ایسا نہ تھا معاملہ ناقابل گرفت
افسوس دسترس میں ہماری نہیں رہا
عشق اب کُھلی کتاب کی صورت سہی شہاب
لیکن کوئی کتاب کا قاری نہیں رہا
شہاب صفدر
No comments:
Post a Comment