Monday, 8 March 2021

میں بند راہوں سے رستہ نکال لیتی ہوں

 میں بند راہوں سے رستہ نکال لیتی ہوں

سہانے خوابوں سے خستہ نکال لیتی ہوں

صبح میں لکھتی ہوں باتیں تمام کاغذ پر

پھر ان کا شام میں دستہ نکال لیتی ہوں

وہ جب بھی کہتا ہے؛ مجھ کو کوئی نشانی دے

میں یک بہ یک دلِ گستہ نکال لیتی ہوں

جو کب کا رُوٹھا ہے بچپن اسے منانے کو

بچھا کے ٹاٹ، میں بستہ نکال لیتی ہوں

اکیلے جینے کی خواہش کبھی نہیں کرتی

بس ایک یادِ گزشتہ نکال لیتی ہوں


زریں منور

No comments:

Post a Comment