میں بند راہوں سے رستہ نکال لیتی ہوں
سہانے خوابوں سے خستہ نکال لیتی ہوں
صبح میں لکھتی ہوں باتیں تمام کاغذ پر
پھر ان کا شام میں دستہ نکال لیتی ہوں
وہ جب بھی کہتا ہے؛ مجھ کو کوئی نشانی دے
میں یک بہ یک دلِ گستہ نکال لیتی ہوں
جو کب کا رُوٹھا ہے بچپن اسے منانے کو
بچھا کے ٹاٹ، میں بستہ نکال لیتی ہوں
اکیلے جینے کی خواہش کبھی نہیں کرتی
بس ایک یادِ گزشتہ نکال لیتی ہوں
زریں منور
No comments:
Post a Comment