Monday, 8 March 2021

دیکھے ہیں جو غم دل سے بھلائے نہیں جاتے

 دیکھے ہیں جو غم دل سے بھلائے نہیں جاتے

اک عمر ہوئی یاد کے سائے نہیں جاتے

اشکوں سے خبردار کہ آنکھوں سے نہ نکلیں

گر جائیں یہ موتی تو اٹھائے نہیں جاتے

ہر جنبشِ دامانِ جنوں جانِ ادب ہے

اس راہ میں آداب سکھائے نہیں جاتے

ہم بھی شب گیسو کے اجالوں میں رہے ہیں

کیا کیجیے دن پھیر کے لائے نہیں جاتے

شکوہ نہیں سمجھائے کوئی چارہ گروں کو

کچھ زخم ہیں ایسے کہ دکھائے نہیں جاتے

اے دستِ جفا سر ہیں یہ اربابِ وفا کے

کٹ جائیں تو کٹ جائیں جھکائے نہیں جاتے

اے ہوش غم دل کے چراغوں کی ہے کیا بات

اک بار جلا دو تو بجھائے نہیں جاتے


ہوش ترمذی

No comments:

Post a Comment