کفِ افسوس تِرے آبلہ پا مَلتے ہوئے
روئے جاتے ہیں سرِ راہِ وفا چلتے ہوئے
میری آنکھوں کو تِری شکل کے جو رنگ دِکھے
میں نے حیرت سے مِٹا ڈالے ہیں سب ملتے ہوئے
میری امید کے جگنو سے تِرا ماہِ تمام
راکھ ہو جائے گا اک روز یونہی جلتے ہوئے
چشمِ نمناک کی پلکوں پہ رکی شامِ کہن
دیکھ سکتی ہے کہاں خواب نیا پلتے ہوئے
جانے کیوں وقتِ سحر پوجنے والوں سے ظہیر
شام کے وقت نہ دیکھا گیا میں ڈھلتے ہوئے
ظہیر مشتاق
No comments:
Post a Comment