اکھڑتی سانس کی الجھن
ہوا تنکے اٹھائے پھر رہی ہے آشیاں کے
بہت محفوظ تھا یہ
پیڑ تھا جب تک سلامت
گھنی شاخوں میں اس کی
آندھیوں کو
وار کرنے کی نہ تھی طاقت
اسے آہستہ آہستہ
کِیا ڈھیر
کسی اندر کے گہرے روگ نے ورنہ
لگے جتنے بھی چرکے جسم پر
ہمت فزائی کا سبب ٹھہرے
کشادہ بازؤں میں آ گئی وسعت
ہُوا پہلے سے بھی مضبوط
پائے استقامت
مگر اندر کی ٹیسوں نے
اسے بے دست و پا کر کے
کسی ایثار کے لائق نہیں چھوڑا
اگرچہ حصے بخرے
کتنے چولہوں کی تپش کا ہوں گے باعث
مگر مہماں، مسافر اور پرندے
میزبانی سے ہوئے محروم
بڑی ہے پیڑ کے دُکھ سے
سہارا ڈھونڈنے کی
روح کو ڈستی، مصیبت
رات پاؤں پاؤں بڑھتی آ رہی ہے
ٹکڑے ٹکڑے جان و دل کو
ایک کرنے کی مشقت میں
ہوا کی دخل اندازی
ہمیں مجبور کرتی ہے
نشانِ سمت و منزل طے کیے بن
کوچ کر جائیں
ہے شام مہلتِ ہجرت
کسی حد سے گزر جائیں
شہاب صفدر
No comments:
Post a Comment