Sunday, 7 March 2021

وہ گلزار کی نظموں جیسی اور میں جون کی وحشت ہوں

 وہ گلزار کی نظموں جیسی

اور میں جون کی وحشت ہوں

وہ چڑھتے دن کے جیسی لڑکی

اور میں رات کی دہشت ہوں


وہ  بارش ہے رحمت والی

میں بارش اِک زحمت ہوں

وہ کہتی ہے میں پاپی ہوں؟

ہاں میں اس سے سہمت ہوں


وہ پہلی نظر محبت والی

اور میں پہلی کروٹ ہوں

وہ پٹڑی پر ریل کے جیسی

میں پٹڑی پر ثروت ہوں


وہ مقبول دُعا ہے کوئی

میں اِک قضا عبادت ہوں

وہ مہنگا علم کتابوں والا

میں سستی کوئی خطابت ہوں


وہ ہے معافی بخشش والی

میں بغض بھری عداوت ہوں

وہ ہے عشق مکمل پختہ

میں نسلی کوئی رقابت ہوں


واصف اسلم

No comments:

Post a Comment