وہ گلزار کی نظموں جیسی
اور میں جون کی وحشت ہوں
وہ چڑھتے دن کے جیسی لڑکی
اور میں رات کی دہشت ہوں
وہ بارش ہے رحمت والی
میں بارش اِک زحمت ہوں
وہ کہتی ہے میں پاپی ہوں؟
ہاں میں اس سے سہمت ہوں
وہ پہلی نظر محبت والی
اور میں پہلی کروٹ ہوں
وہ پٹڑی پر ریل کے جیسی
میں پٹڑی پر ثروت ہوں
وہ مقبول دُعا ہے کوئی
میں اِک قضا عبادت ہوں
وہ مہنگا علم کتابوں والا
میں سستی کوئی خطابت ہوں
وہ ہے معافی بخشش والی
میں بغض بھری عداوت ہوں
وہ ہے عشق مکمل پختہ
میں نسلی کوئی رقابت ہوں
واصف اسلم
No comments:
Post a Comment