مایۂ افتخار
سلیماں جانے کب آیا یہاں
لیکن ہے پابوسی کے باعث سر کشیدہ
‘‘آج بھی ’’تخت سلیماں
یہیں شاید کیا تھا
مور بے مایہ نے اک طنزِ ملیح
افلاک میں اڑتے ہوئے اُس نے مگر
سن لی تھی سرگوشی
سلیماں کے قدم چھونے کو
اپنی عزت افزائی سمجھ کر
موسموں کی تندخوئی سے اُلجھ کر
جب بھی ہوتا ہے رجز خواں
‘‘یہ مرا ’’تخت سلیماں
تو مجھے ہوتی ہے حیرت
سلیماں کے قدم لینا تو اس کو یاد ہے
لیکن نہیں ہے یاد اس کو مور بے مایہ
کہ جس کی حکمت و دانش نے
رہوا رِہوا کے شہسواروں کو
کیا پستی نشینوں کی طرف مائل
شہِ جنات اور اس کا ٭لاؤ لشکر روز آتا ہے
نہیں مور و ملخ میں
اب کچھ ایسا جوہر قابل
کرے جو تندہی سے اپنا حالِ دل بیاں
اور بہرِ پُرسش
غار تک آئے سلیماں
شہاب صفدر
٭لاؤ لشکر: غلط العام لفظ ہے اصل میں یہ لاد لشکر ہے
No comments:
Post a Comment