نہیں کہ حق میں کوئی بھی دلیل تھی ہی نہیں
مِرے وکیل میں خُوئے وکیل تھی ہی نہیں
سزائے سخت یقینی تھی میرے مُنصف کی
ستم شعار طبیعت عدیل تھی ہی نہیں
میں اس کو دل میں تو داخل نہ ہونے دیتا مگر
کُھدی نہ تھی کوئی خندق، فصیل تھی ہی نہیں
عجیب خواب تھا پریاں جہاں اترتی تھیں
کُھلی جو آنکھ تو باقی وہ جھیل تھی ہی نہیں
تم آئے ہو تو دھڑکنے لگا ہے دل ورنہ
بدن میں روح تو جیسے دخیل تھی ہی نہیں
ہدف نہیں تھی کبھی منزلِ ہوس راجا
وہ رِہگزر تو وگرنہ طویل تھی ہی نہیں
احمد رضا راجا
No comments:
Post a Comment