Saturday, 17 April 2021

بجز اس کے کوئی رونا نہیں ہے

 بجز اس کے کوئی رونا نہیں ہے

کہ کل مجھ کو یہاں ہونا نہیں ہے

نہ ہو جس بیج میں خواہش نمو کی

مجھے وہ بیج بونا نہیں ہے

تجھے پانا ہے لیکن تیری خاطر

خود اپنے آپ کو کھونا نہیں ہے

ہیں مٹی میں سفر کے لاکھ رستے

اتر کر خاک میں سونا نہیں ہے

مِرے ہونے سے ہی سب کچھ ہے لیکن

مِرا ہونا مِرا ہونا نہیں ہے


رفعت وحید

No comments:

Post a Comment