بجز اس کے کوئی رونا نہیں ہے
کہ کل مجھ کو یہاں ہونا نہیں ہے
نہ ہو جس بیج میں خواہش نمو کی
مجھے وہ بیج بونا نہیں ہے
تجھے پانا ہے لیکن تیری خاطر
خود اپنے آپ کو کھونا نہیں ہے
ہیں مٹی میں سفر کے لاکھ رستے
اتر کر خاک میں سونا نہیں ہے
مِرے ہونے سے ہی سب کچھ ہے لیکن
مِرا ہونا مِرا ہونا نہیں ہے
رفعت وحید
No comments:
Post a Comment