ظلم سہتے ہیں خموشی سے مسلسل ہم لوگ
اپنی "راہوں" کو بنا دیتے ہیں دلدل ہم لوگ
"شیخ نے جوشِ خطابت میں کہا تھا "جاں دو
جاں ہتھیلی پہ سجا لائے تھے پاگل ہم لوگ
اپنے ہاتھوں سے جسے دار پہ کل کھینچا تھا
جب زمیں کھود کے بھی پانی نکل سکتا تھا
جانے کیا سوچ کے تکتے رہے بادل ہم لوگ
شہر کا شہر "دھماکوں" سے لرزتا ہی رہا
بیٹھ کے گھر میں بدلتے رہے چینل ہم لوگ
جلیل حیدر
No comments:
Post a Comment