تُو اپنی چِٹھیوں میں میر کے اشعار لکھتی ہے
محبت کے بِنا ہے زندگی بے کار، لکھتی ہے
تیرے خط تو عبارت ہیں وفاداری کی قسموں سے
جنہیں میں پڑھتے ڈرتا ہوں وہی ہر بار لکھتی ہے
تُو پیروکار لیلیٰ کی ہے، شیریں کی پُجارن ہے
مگر تُو جس پہ بیٹھی ہے وہ سونے کا سنگھاسن ہے
تیرے پلکوں کے مسکارے تیری ہونٹوں کی یہ لالی
یہ تیرے ریشمی کپڑے،۔ یہ تیرے کان کی بالی
گلے کا یہ چمکتا ہار،۔ ہاتھوں کے تیرے کنگن
یہ سب کے سب ہیں میرے دل میرے احساس کے دشمن
ان کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے پیار کی قیمت
وفا کا مول کیا؟، کیا ہے اعتبار کی قیمت؟
شکستہ کشتیوں، ٹُوٹی ہوئی پتوار کی قیمت
ہے میری جیت سے بڑھ کر تو تیری ہار کی قیمت
حقیقت خون کے آنسو تجھے رُلوائے گی جاناں
تُو اپنے فیصلے پر بعد میں پچھتائے گی جاناں
میرے کاندھے پر چھوٹے بھائیوں کی ذمہ داری ہے
میرے ماں باپ بوڑھے ہیں، بہن بھی تو کنواری ہے
برہنہ موسموں کے وار کو تُو سہہ نہ پائے گئی
حویلی چھوڑ کر ایک جھونپڑے میں رہ نہ پائے گئی
امیری تیری میری مُفلسی کو چَھل نہیں سکتی
تُو ننگے پاؤں تو قالین پر بھی چل نہیں سکتی
ابرار کاشف
No comments:
Post a Comment