رونق ہی نہیں اس کی ہم روح و رواں بھی ہیں
لیکن ہمیں دنیا کی خاطر پہ گِراں بھی ہیں
اک تیرے ہی کوچے پر موقوف نہیں ہے کچھ
ہر گام ہیں تعزیریں، ہم لوگ جہاں بھی ہیں
گُل چیں کو نہیں شاید اس راز سے آگاہی
شبنم میں نہائے گل شعلوں کی زباں بھی ہیں
کھاتے تھے قسم جن کے کردار و عمل کی ہم
شامل صفِ اعداء میں وہ ہم نفساں بھی ہیں
سچ کہتے ہو ہم ایسے ذروں کی حقیقت کیا
اب کون کہے تم سے ہم سنگِ گراں بھی ہیں
اختر لکھنوی
No comments:
Post a Comment