آ ہی جائے سحر خموشی سے
ڈھونڈ لے میرا در خموشی سے
کیجیۓ ہم پہ کچھ کرم اپنا
کہہ رہی ہے نظر خموشی سے
چند لمحے جو پاس بیٹھے تھے
کر گئے ہیں اثر خموشی سے
رات کی سن رہا ہوں سرگوشی
دیکھتا ہوں قمر خموشی سے
بات ہولے سے چل نکلتی ہے
پھیلتی ہے خبر خموشی سے
دیکھ طوفان سب پرندے ہی
بند کرتے ہیں پر خموشی سے
منتظر ہیں مکیں مکاں دونوں
دل میں جائیں اتر خموشی سے
شور ہم کو عذاب لگتا ہے
زندگی ہو بسر خموشی سے
کچھ تو کہیۓ کہ ہم پشیماں ہیں
آنکھ کیجے نہ تر خموشی سے
رہزنوں کو خبر نہیں دینی
کاٹنا ہے سفر خموشی سے
بند پائیں کہیں نہ دروازہ
لوٹیۓ اپنے گھر خموشی سے
سہیل ملک
No comments:
Post a Comment