Sunday, 5 September 2021

بہر چراغ خود کو جلانے والی میں

 بہر چراغ خود کو جلانے والی میں

دھوئیں میں اپنے کرب چُھپانے والی میں

ہریالی درکار اڑانیں بھی پیاری

کدھر چلی میں کدھر تھی جانے والی میں

دھنک رُتوں کے جال بچھانے والا تُو

اُلجھ کے اپنا آپ گنوانے والی میں

میری چُپ کا جشن منانے والا تُو

تلواروں سے کاٹ چُرانے والی میں

پُونجی سُن کر سمٹ نہ پانے والا تُو

سکہ سکہ تجھے چُرانے والی میں


عذرا پروین

No comments:

Post a Comment