دکھوں کی اوڑھ کے ہرگز کبھی چادر نہیں جاتا
میں افسردہ رہوں جب تک کبھی میں گھر نہیں جاتا
یہی بہتر ہے خود کو موردِ الزام ٹھہراؤں
مِرا الزام ایسا ہے کسی کے سر نہیں جاتا
ڈرا دھمکا کے بچوں کی کبھی مت پرورش کرنا
کہ ساری زندگی پھر بچپنے کا ڈر نہیں جاتا
ابھی کشکولِ دل میں درد کے سکے کھنکتے ہیں
سرِ راہ بیٹھنا ہے جب تلک یہ بھر نہیں جاتا
عجب سا زندگی بھر کےلیے ملتا ہے دُکھ ورنہ
جدا ہو کر کسی سے کوئی بھی تو مر نہیں جاتا
کھڑا رکھتا ہے منصف روز ہی مجھ کو کٹہرے میں
مگر سُن کر دلائل فیصلہ بھی کر نہیں جاتا
میں جیسا ہوں جہاں ہوں جو بھی ہوں لیکن کبھی طاہر
حصارِ ذات اور اوقات سے باہر نہیں جاتا
طاہر مسعود
No comments:
Post a Comment