Sunday, 5 September 2021

ہوا کیا فائدہ اظہار کر کے

 ہُوا کیا فائدہ اظہار کر کے

کہ دونوں مر گئے تکرار کر کے

نہیں جب کام آیا میں کسی کا

تو خود کو رکھ دیا بے کار کر کے

بہت مشکل تھا تیرے پاس آنا

میں پہنچا راستہ ہموار کر کے

نہیں یہ زندگی یوں ہی ملی ہے

میں زندہ خود کو ہوں مسمار کر کے

بہت غمگین ہے وہ جیت کر بھی

مجھے اچھا لگا ہے ہار کر کے

سرہانے جو مِرے بیٹھا تھا اصغر

وہ خود ہی سو گیا بیدار کر کے


اصغر شمیم

No comments:

Post a Comment