Sunday, 5 September 2021

وہ چاہے محبت سے مری ہاتھ اٹھا لیں

 وہ چاہے محبت سے مِری ہاتھ اٹھا لیں

یا خوب مِری ذات کو جی بھر کے ستا لیں

گھر لوٹ کے آ جائیں یہ نادان پرندے

آ کر کبھی سوکھے ہوئے پیڑوں کی دعا لیں

اے مالک و مختار! تُو ناراض نہ ہونا

ہم بھی تیرے بندے ہیں اگر عید منا لیں

جب کوئی تعلق ہی نہیں تم سے ہمارا

کیوں کر دل ناکام میں امید کو پا لیں

کیا فکر کہ ڈستے رہیں خاموشی کے لمحے

کیا غم ہے کہ تنہائی کے اژدر مجھے کھا لیں

آنکھوں سے تجھے دور تو کر سکتے ہیں لیکن

ہم دل سے تِری شکل بتا کیسے نکالیں

تادیر خموشی میں اسے مانگ لیں رب سے

کچھ دیر مناجات کی بارش میں نہا لیں

ہر خواب کی تعبیر ضروری نہیں ہوتی

لازم تو نہیں ہم جسے چاہیں اسے پا لیں

کچھ آنکھ کے بھیگے ہوئے منظر تجھے بھیجیں

کچھ یاد کے لمحات تِری سمت اچھالیں

اجڑے ہیں کسی بیوہ کے بالوں کی طرح ہم

آپ آئیں ہمیں اب تو اذیت سے نکالیں

اب تھام لیں آنکھوں سے اترتے ہوئے آنسو

ہونٹوں میں سسکتی ہوئی آہوں کو دبا لیں


حنا عنبرین

No comments:

Post a Comment