Sunday, 5 September 2021

ہمارے گھر میں ہی ہم پر یہ کیسا خوف طاری ہے

 ہمارے گھر میں ہی ہم پر یہ کیسا خوف طاری ہے

کسی کی چیخ سنتے ہیں، تو لگتا ہے ہماری ہے

قرار آ جائے تو سانسوں سے رشتہ ٹوٹ ہی جائے

اثاثہ ہر جنوں والے کا، ہردم بے قراری ہے

مِری آمد سے کِھلنے لگ گئے ہیں پھول آنکھوں میں

مگر بتلا، محبت ہے کہ جذبہ اشتہاری ہے

ہے اس بنیاد پر، روشن مِری پہچان کا چہرہ

انا کے ساتھ اس لہجے میں تھوڑی انکساری ہے

چلن رشتوں میں کاروبار کا، اب عام ہے اختر

گلے ملتے ہیں، لیکن درمیاں بے اعتباری ہے


پرویز اختر

No comments:

Post a Comment