جل پری
وہ سمندر سے باہر نہیں آ رہی
اور سمندر سے میری بنی ہی نہیں
کل اماوس کی شب تھی
سمندر بڑے چین سے سو رہا تھا
میں اس جل پری سے ملا اور کہا؛
اس میں کچھ شک نہیں کہ خداوندِ فطرت نے
تجھ کو سمندر کی خاطر بنایا ہے
اور اس کی ہر لہر کا تجھ پہ حق ہے
بہت لازمی ہے کہ تُو بھی اسی سمت کا رخ کرے
جس طرف یہ سمندر بہے
باقی آدھا ادھورا وجود
جو سمندر کی لہروں سے کر کے بغاوت
اماوس کی شب مجھ سے ملتا ہے
وہ تو سمندر کی لہروں سے یکسر جدا ہے
تیری آدھی انا میرے خوابوں کی تعبیر ہے
اور باقی سمندر کی جاگیر ہے
آخری بار کہتا ہوں؛
اس دوہرے پن سے پیچھا چُھڑا
اب سمندر سے باہر نکل یا مجھے بُھول جا
ازرم اسلام
No comments:
Post a Comment