Saturday, 10 July 2021

کوئی نہیں تھا جو آواز دے سفینے سے

 کوئی نہیں تھا جو آواز دے سفینے سے

سو ڈوب جانا ہی بہتر تھا ایسے جینے سے

اسی یقین کی وسعت نے حوصلہ بخشا

وہ منتخب ہوں جسے ہے سند مدینے سے

وہ شخص مجھ سے ہنسی مانگنے کو آیا تھا

اُداس پَل میں اُداسی کے کُل خزینے سے

نجانے شعر کہاں سے اُترتے ہیں مجھ پر

نجانے کون ہے جو بولتا ہے سینے سے

طلوعِ شب سے ذرا پہلے تھا بلندی پر

وہ جو دھڑام سے آیا زمیں پہ زینے سے

یہ ہجر زہر نہیں ہے کہ حانی ترک کریں

حیات بڑھتی ہے آبِ حیات پینے سے


حنان حانی

No comments:

Post a Comment