کوئی نہیں تھا جو آواز دے سفینے سے
سو ڈوب جانا ہی بہتر تھا ایسے جینے سے
اسی یقین کی وسعت نے حوصلہ بخشا
وہ منتخب ہوں جسے ہے سند مدینے سے
وہ شخص مجھ سے ہنسی مانگنے کو آیا تھا
اُداس پَل میں اُداسی کے کُل خزینے سے
نجانے شعر کہاں سے اُترتے ہیں مجھ پر
نجانے کون ہے جو بولتا ہے سینے سے
طلوعِ شب سے ذرا پہلے تھا بلندی پر
وہ جو دھڑام سے آیا زمیں پہ زینے سے
یہ ہجر زہر نہیں ہے کہ حانی ترک کریں
حیات بڑھتی ہے آبِ حیات پینے سے
حنان حانی
No comments:
Post a Comment