جہاں ہے چھاؤں میسر وہی مرا گھر ہے
درخت ہو کے بھی تُو مجھ سے پوچھتا گھر ہے
یہ بات الگ ہے یہاں کوئی بھی نہیں رہتا
گزرنے والے تو کہتے ہیں، واہ کیا گھر ہے
پھر ایک اور پرندہ چلا گیا گھر سے
پھر ایک اور پرندے کا کھو گیا گھر ہے
تری قسم وہ فرشتہ تھا جس نے سمجھایا
گلی میں بائیں طرف مڑ کے تیسرا گھر ہے
جو شخص فوٹو تری جھونپڑی کے لیتا رہا
سنا ہے شہر میں اس کا بہت بڑا گھر ہے
میں بچپنے میں کھلونے سجا کے کہتا تھا
یہ میں ہوں یہ ہیں مرے لوگ یہ مرا گھر ہے
خدا کرے کسی دیوار کو پتا نہ چلے
گرا نہیں مگر اندر سے ہِل چکا گھر ہے
ازرم اسلام
No comments:
Post a Comment