Monday, 7 December 2020

طاق پر مسند چراغ لگاؤ

 طاق پر مسندِ چراغ لگاؤ

تازہ کرنوں کا ایک باغ لگاؤ

اس کے دربار سے نہیں لوٹی

میری آواز کا سراغ لگاؤ

یہ محبت نہیں ریاضی ہے

دیکھو لڑکی! ذرا دماغ لگاؤ

کینوس پر بکھیرو رنگِ ہوس

اپنے ہاتھوں سے گُل پہ زاغ لگاؤ

صاف شفاف ہے مرا کُرتا

سرخ ہونٹوں سے کوئی داغ لگاؤ

دل کے بستے میں تم کو رکھنا ہے

اک ذرا آنکھ سے چراغ لگاؤ

میرے آگے صراحی رکھ دینا

ساری میزوں پہ جب ایاغ لگاؤ

کر رہا ہوں نبھاہ کی کوشش

کوئی تخمینۂ فراغ لگاؤ


فائق ترابی

No comments:

Post a Comment