ایک نہیں ہم پہ کئی وار کرے گا
ہر بار نئے لشکری تیار کرے گا
بپھرے ہوئے دریا سے بھی پہرے نہ اٹھانا
وہ لمحۂ غفلت میں اسے پار کرے گا
ہر نیند کے موسم میں ہمیں جاگنا ہو گا
لے ڈوبے گا اک روز اسے اس کا تکبر
اس کے بھی ارادے کوئی مسمار کرے گا
اے کاش کوئی وقت کے ہٹلر کو بتا دے
اک روز اسے وقت ہی سنگسار کرے گا
یہ ہاتھ وہاں تک بھی پہنچ جائیں گے فخری
وہ جتنی بلندی پہ بھی دستار کرے گا
زاہد فخری
No comments:
Post a Comment