محبت کر کے بھی دیکھا محبت میں بھی دھوکا ہے
(مزاحیہ)
شوہر
تجھے کشمیر سمجھا تھا مگر تھرپارکر نکلا
نہ اماں تیری افسر ہیں، نہ ابا ڈاکٹر نکلا
تِرے اس حسن کے پیچھے بیوٹی پارلر نکلا
میں نیلے لینس میں ڈوبا تو جا کر کاشغر نکلا
نہ جھمکے تیرے اصلی ہیں نہ اصلی تیرا کوکا ہے
محبت کر کے بھی دیکھا محبت میں بھی دھوکا ہے
بیگم
امارت کا ہر اک دعویٰ تِرا بے کار ہی نکلا
وزیروں میں کوئی انکل نہ کوئی یار ہی نکلا
نہ انکم ٹیکس میں کوئی بھی رشتہ دار ہی نکلا
نہ کوئی جاب ہے تیری نہ کاروبار ہی نکلا
پلازہ جس کو کہتے تھے وہ اک چھوٹا سا کھوکھا ہے
محبت کر کے بھی دیکھا محبت میں بھی دھوکا ہے
زاہد فخری
No comments:
Post a Comment