مزاحیہ غزل
نہ کھاتا اگر میں تو تکرار کیا تھی
مگر کچھ پکاتے ہوئے عار کیا تھی
کیا ہم کو برباد میک اپ نے تیرے
خطا اس میں بندے کی سرکار کیا تھی
میاں بیوی میں تھی اگر کوئی ان بن
ستاروں سے آگے چھلانگیں تھیں اپنی
پڑوسن کی چھوٹی سی دیوار کیا تھی
چڑھی ناک میں جب تو فخری نہ پوچھو
وہ چھینکوں کا طوفان تھا نسوار کیا تھی
زاہد فخری
No comments:
Post a Comment