Sunday, 6 September 2020

نہ کھاتا اگر میں تو تکرار کیا تھی

مزاحیہ غزل

نہ کھاتا اگر میں تو تکرار کیا تھی
مگر کچھ پکاتے ہوئے عار کیا تھی
کیا ہم کو برباد میک اپ نے تیرے
خطا اس میں بندے کی سرکار کیا تھی
میاں بیوی میں تھی اگر کوئی ان بن
تو گھر میں بچوں کی بھرمار کیا تھی؟
ستاروں سے آگے چھلانگیں تھیں اپنی
پڑوسن کی چھوٹی سی دیوار کیا تھی
چڑھی ناک میں جب تو فخری نہ پوچھو
وہ چھینکوں کا طوفان تھا نسوار کیا تھی

زاہد فخری

No comments:

Post a Comment