یہ کہانی بھی ہے وابستہ مِری ہار کے ساتھ
سر بھی سونپ آیا تھا دشمن کو میں دستار کے ساتھ
میں کہ عیسیٰ ہوں نہ منصور ہوں لیکن پھر بھی
ایک بے نام سا رشتہ ہے مِرا دار کے ساتھ
انہی گلیوں میں تِری یاد لیے پھرتا ہوں
اپنی پلکوں کو اٹھا روک لے رستہ میرا
ورنہ جانے دے مجھے آخری انکار کے ساتھ
میں پلٹتے ہوۓ لشکر سے بہت دور نہ تھا
نصب تھا خیمہ مِرا، خیمۂ سردار کے ساتھ
منصفِ شہر، تِرے شہر کا معمار ہوں میں
مجھ کو کیوں باندھا گیا شہر کی دیوار کے ساتھ
لکھتے لکھتے کوئی ایسا بھی آۓ گا، کہ میں
اک خبر بن کے لپٹ جاؤں گا اخبار کے ساتھ
جانے وحشت ہے، محبت ہے یا قسمت میری
ایک قیدی سا بنا پھرتا ہوں پرکار کے ساتھ
واحد اعجاز میر
No comments:
Post a Comment