Sunday, 6 September 2020

شہر کا شہر مجھ سے پرایا نہ کر مسکرایا نہ کر

شہر کا شہر مجھ سے پرایا نہ کر، مسکرایا نہ کر
چلتے پھرتے مجھے یاد آیا نہ کر، مسکرایا نہ کر
ڈول جاتی ہے خوشبو سے بوجھل ہوا، تجھ سے کتنا کہا
کھول کر بال راہوں میں آیا نہ کر، مسکرایا نہ کر
شہر میں خامشی پھیل جاتی ہے لب گونگے ہو جاتے ہیں
میرے احساس میں گنگنایا نہ کر، مسکرایا نہ کر
ایک آہٹ ہوئی تو جدائی کہیں سے نکل آئے گی
مجھ سے مل کر بہت کھلکھلایا نہ کر، مسکرایا نہ کر
جس سے وابستہ ہے زندگی، زندگی کی سبھی خواہشیں
اس کی یاد اس کا غم، بھول جایا نہ کر، مسکرایا نہ کر
دن گزارا ہے بکھرا ہوا ہوں مجھے اور بکھرا نہ تو
شام کو میرے رستوں میں آیا نہ کر، مسکرایا نہ کر
ضدی بچہ ہے دل پھر رہا ہے محبت کے بازار میں
اتنے رنگ اوڑھ کر شہر آیا نہ کر، مسکرایا نہ کر

واحد اعجاز میر

No comments:

Post a Comment