Sunday, 6 September 2020

زرد موسم کی اذیت بھی اٹھانے کا نہیں

زرد موسم کی اذیت بھی اٹھانے کا نہیں
میں درختوں کی جگہ خود کو لگانے کا نہیں
اب تِرے ساتھ تعلق کی گزرگاہوں پر
وقت مشکل ہے، مگر ہاتھ چھڑانے کا نہیں
جادۂ صبر مِرے عشق کی زینت ٹھہرا
سو میں آنکھوں سے کوئی اشک بہانے کا نہیں
قریۂ سبز سے آتی ہوئی پر کیف ہوا
طاق پر رکھا مِرا دیپ بجھانے کا نہیں
میں ہدف ہوں مگر اس آنکھ کے پیکان کا ہوں
دیکھ دنیا! میں کسی اور نشانے کا نہیں
چل رہا تھا تو سبھی لوگ مِرے بازو تھے
گر پڑا ہوں تو کوئی دوست اٹھانے کا نہیں
عشق ہے اور رگ و پے میں سمایا ہے سعید
اور یہ روگ مِری جان سے جانے کا نہیں

مبشر سعید

No comments:

Post a Comment