زرد موسم کی اذیت بھی اٹھانے کا نہیں
میں درختوں کی جگہ خود کو لگانے کا نہیں
اب تِرے ساتھ تعلق کی گزرگاہوں پر
وقت مشکل ہے، مگر ہاتھ چھڑانے کا نہیں
جادۂ صبر مِرے عشق کی زینت ٹھہرا
قریۂ سبز سے آتی ہوئی پر کیف ہوا
طاق پر رکھا مِرا دیپ بجھانے کا نہیں
میں ہدف ہوں مگر اس آنکھ کے پیکان کا ہوں
دیکھ دنیا! میں کسی اور نشانے کا نہیں
چل رہا تھا تو سبھی لوگ مِرے بازو تھے
گر پڑا ہوں تو کوئی دوست اٹھانے کا نہیں
عشق ہے اور رگ و پے میں سمایا ہے سعید
اور یہ روگ مِری جان سے جانے کا نہیں
مبشر سعید
No comments:
Post a Comment