Thursday, 7 October 2021

یہ دنیا اک سمندر ہے مگر ساحل مدینہ ہے

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


 یہ دنیا اک سمندر ہے مگر ساحل مدینہ ہے

ہر اک موجِ بلا کی راہ میں حائل مدینہ ہے

مدینے کے مسافر تجھ پہ میرے جان و دل قربان

تیری آنکھیں بتاتی ہیں، تیری منزل مدینہ ہے

زمانہ دھوپ ہے اور چھاؤں ہے بس اک بستی میں

یہ دنیا جل کے بجھ جاتی، مگر شامل مدینہ ہے

جہاں عشاق بستے ہوں وہ بستی ان کی بستی ہے

جہاں پہ ذکر ہو انﷺ کا، وہی محفل مدینہ ہے

شرف مجھ کو بھی حاصل ہے محمدﷺ کی غلامی کا

میں اتنی دور ہوں لیکن مجھے حاصل مدینہ ہے

کرم کتنا ہے فخری انﷺ کی ذات پاک کا مجھ پر

وہ میرے دل میں رہتے ہیں میرا بھی دل مدینہ ہے


زاہد فخری

No comments:

Post a Comment