Thursday, 7 October 2021

آنکھیں سجود میں ہیں تو دل کا قیام ہے

 آنکھیں سجود میں ہیں تو دل کا قیام ہے

حیران ہیں کہاں پہ یہ اپنا قیام ہے

اشکوں کے ساتھ ساتھ ہے تاروں کا قافلہ

اور نعت کے سفر میں مدینہ قیام ہے

دل سے نکال جتنے بھی وہم و گمان ہیں

اس راہ میں یقین ہی پہلا قیام ہے

اب اپنی زِندگی ہے مسلسل سفر کا نام

منزل قیام ہے نہ یہ رستہ قیام ہے

میں سوچتا ہوں غارِ حرا میں گزار لوں

دل کے سفر میں ایک مہینہ قیام ہے

سجدہ ضرور آئے گا اگلے پڑاؤ میں

فی الحال تو یہ سارا زمانہ قیام ہے


اختر شمار

No comments:

Post a Comment