Sunday, 20 March 2022

کیسی سرشاری کے عالم میں ہوں آیا ہوا میں

 کیسی سرشاری کے عالم میں ہوں آیا ہوا میں

اپنے اندوہِ محبت میں سمایا ہوا میں

ہجر تھا جس کی فسوں کاری و خود رائی میں

عرصۂ عشق پہ اک عمر تھا چھایا ہوا میں

جب بھی لاتی ہے ہوا اس کے بدن کی خوشبو

پھر سے جل اٹھتا ہوں مدت سے بجھایا ہوا میں

کاسۂ فن میں ہیں کچھ ایسے تہی معنی حروف

ان سُنا لگتا ہوں ہر بار سُنایا ہوا میں

آج بھی ڈھونڈتا ہوں اپنے طرفداروں کو

زخم خوردہ تِرے کوفے میں بلایا ہوا میں


سرور جاوید

No comments:

Post a Comment