Sunday, 20 March 2022

دیوار پر لٹکتی مایوسی

 دیوار پر لٹکتی مایوسی


میں خود کو چھوڑنے کے لیے

ریلوے سٹیشن پر گیا 

تو آخری گاڑی جا چکی تھی

میرے پاس کوئی سامان نہیں تھا

سوائے ایک معذور نظم کے

جو چھت پر جاتے ہوئے 

سیڑھیوں سے گِر گئی تھی

میں نے خود کو بنچ پر بٹھایا

اور پانی لینے کے بہانے 

سٹیشن سے باہر نکل گیا

کبھی مڑ کر نہیں دیکھا

کوئی نہیں جانتا 

اس کے بعد میں کہیں گیا بھی

یا 

وہیں بنچ پر بیٹھا

اپنے آنے کا

انتظار کرتا رہا


ذیشان راٹھور

No comments:

Post a Comment