دیوار پر لٹکتی مایوسی
میں خود کو چھوڑنے کے لیے
ریلوے سٹیشن پر گیا
تو آخری گاڑی جا چکی تھی
میرے پاس کوئی سامان نہیں تھا
سوائے ایک معذور نظم کے
جو چھت پر جاتے ہوئے
سیڑھیوں سے گِر گئی تھی
میں نے خود کو بنچ پر بٹھایا
اور پانی لینے کے بہانے
سٹیشن سے باہر نکل گیا
کبھی مڑ کر نہیں دیکھا
کوئی نہیں جانتا
اس کے بعد میں کہیں گیا بھی
یا
وہیں بنچ پر بیٹھا
اپنے آنے کا
انتظار کرتا رہا
ذیشان راٹھور
No comments:
Post a Comment