Sunday, 20 March 2022

پوچھو نہ حاسدین کی لمبی قطار ہے

 پوچھو نہ حاسدین کی لمبی قطار ہے

میرے مخالفین کی لمبی قطار ہے

جتنی ہمارے پاس ہے فہرستِ دوستاں

اتنی منافقین کی لمبی قطار ہے

تاریخ کو تاریک کیا کس نے کون تھا

جھوٹے مؤرخین کی لمبی قطار ہے

سب لاولد ضعیف کی میت پہ جھگڑیں گے

ترکے کے وارثین کی لمبی قطار ہے

کوئی بھی پوچھتا نہیں دکھ درد میں مجھے

ویسے لواحقین کی لمبی قطار ہے

جگنو، ستارے، تتلیاں، موسم، نظارے، پھول

تیرے تو خادمین کی لمبی قطار ہے

خود کو شمار کرتے ہو دیوانوں میں نشاط

تم جیسے عاشقین کی لمبی قطار ہے


نشاط عبیر

No comments:

Post a Comment