پوچھو نہ حاسدین کی لمبی قطار ہے
میرے مخالفین کی لمبی قطار ہے
جتنی ہمارے پاس ہے فہرستِ دوستاں
اتنی منافقین کی لمبی قطار ہے
تاریخ کو تاریک کیا کس نے کون تھا
جھوٹے مؤرخین کی لمبی قطار ہے
سب لاولد ضعیف کی میت پہ جھگڑیں گے
ترکے کے وارثین کی لمبی قطار ہے
کوئی بھی پوچھتا نہیں دکھ درد میں مجھے
ویسے لواحقین کی لمبی قطار ہے
جگنو، ستارے، تتلیاں، موسم، نظارے، پھول
تیرے تو خادمین کی لمبی قطار ہے
خود کو شمار کرتے ہو دیوانوں میں نشاط
تم جیسے عاشقین کی لمبی قطار ہے
نشاط عبیر
No comments:
Post a Comment