بچھڑ جانا تھا، سو چہرہ تمہارا دیکھنا تھا
سفر در پیش تھا،۔ اپنا ستارہ دیکھنا تھا
تمہارے ساتھ سُکھ کی منزلوں پہ ہم نہ ہوں گے
کہ ہم وہ لوگ ہیں، جن کو خسارہ دیکھنا تھا
مِری آنکھوں کو بینائی سے بڑھ کر کچھ عطا کر
اندھیرا کس نے سپنوں میں اتارا؟ دیکھنا تھا
پھر اس کے بعد جوئے شیر تھل اور قصر شیریں
بس اس کہسار کی جانب ہمارا دیکھنا تھا
تم اہل درد کی نازک خیالی کیا سمجھتے
تمہیں تو چشم قاتل کا اشارہ دیکھنا تھا
سرور جاوید
No comments:
Post a Comment