جب مد مقابل آسماں تھا
ہر شخص ہی مجھ سے بدگماں تھا
یہ تنکے گواہی دے رہے ہیں
اس پیڑ پہ کوئی آشیاں تھا
پامال سکوں ہے کچھ دنوں سے
میں اچھا خاصہ شادماں تھا
اس بٹ کو خدا کِیا جس نے
وہ عشق تھا میرا، میں کہاں تھا
اب ایک کہانی بن چکا ہے
جو راز ہمارے درمیاں تھا
ایک جست میں پار ہوا ہے دانی
وہ دشت جو پہلے بیکراں تھا
دانش نذیر دانی
No comments:
Post a Comment