Monday, 14 March 2022

جب مد مقابل آسماں تھا

 جب مد مقابل آسماں تھا

ہر شخص ہی مجھ سے بدگماں تھا

یہ تنکے گواہی دے رہے ہیں

اس پیڑ پہ کوئی آشیاں تھا

پامال سکوں ہے کچھ دنوں سے

میں اچھا خاصہ شادماں تھا

اس بٹ کو خدا کِیا جس نے

وہ عشق تھا میرا، میں کہاں تھا

اب ایک کہانی بن چکا ہے

جو راز ہمارے درمیاں تھا

ایک جست میں پار ہوا ہے دانی

وہ دشت جو پہلے بیکراں تھا


دانش نذیر دانی

No comments:

Post a Comment