ریت ہے بے کرانی ہے
اور صحرا کی کیا کہانی ہے
کھول کر دیکھ در مکانوں کے
لا مکانی ہی لا مکانی ہے
راستہ کس سے مانگتے ہو یہاں
بھیڑ نے کس کی بات مانی ہے
اپنے قدموں کے نقش غائب ہیں
بے نشانی سی بے نشانی ہے
ہمیں کچھ رک گئے سے ہیں بیتاب
ورنہ چاروں طرف روانی ہے
پرتپال سنگھ بیتاب
No comments:
Post a Comment