Saturday, 10 June 2023

ریت ہے بیکرانی ہے

 ریت ہے بے کرانی ہے 

اور صحرا کی کیا کہانی ہے 

کھول کر دیکھ در مکانوں کے 

لا مکانی ہی لا مکانی ہے 

راستہ کس سے مانگتے ہو یہاں 

بھیڑ نے کس کی بات مانی ہے 

اپنے قدموں کے نقش غائب ہیں 

بے نشانی سی بے نشانی ہے 

ہمیں کچھ رک گئے سے  ہیں بیتاب

ورنہ چاروں طرف روانی ہے 


پرتپال سنگھ بیتاب

No comments:

Post a Comment