یار بھی راہ کی دیوار سمجھتے ہیں مجھے
میں سمجھتا تھا مِرے یار سمجھتے ہیں مجھے
نیک لوگوں میں مجھے نیک گِنا جاتا ہے
اور گنہ گار، گنہ گار سمجھتے ہیں مجھے
جڑ اکھڑنے سے جھکی رہتی ہیں شاخیں میری
روشنی سرحدوں کے پار بھی پہنچاتا ہوں
ہم وطن اس لیے غدار سمجھتے ہیں مجھے
وہ جو اُس پار ہیں ان کے لیے اِس پار ہوں میں
یہ جو اِس پار ہیں، اُس پار سمجھتے ہیں مجھے
میں بدلتے ہوئے حالات میں ڈھل جاتا ہوں
دیکھنے والے اداکار سمجھتے ہیں مجھے
میں تو یوں چپ ہوں کہ اندر سے بہت خالی ہوں
اور یہ لوگ پُر اسرار سمجھتے ہیں مجھے
میں تو خود بکنے کو بازار میں آیا ہوا ہوں
اور دکاں دار، خریدار سمجھتے ہیں مجھے
لاش کی طرح سرِ آبِ رواں ہوں شاہد
ڈوبنے والے مددگار سمجھتے ہیں مجھے
شاہد ذکی
No comments:
Post a Comment